چرخ تک دھوم ہے، کس دھوم سے آیا سہرا (نظم)
چرخ تک دھوم ہے، کس دھوم سے آیا سہرا
چاند کا دائرہ لے، زہرہ نے گایا سہرا
رشک سے لڑتی ہیں آپس میں اُلجھ کر لڑیاں
باندھنے کے لیے جب سر پہ اُٹھایا سہرا
اشعار کی تقطیع
تبصرے