ہائے ہائے (قطعہ)
کلکتہ کا جو ذکر کیا تُو نے ہم نشیں!
اِک تِیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
وہ سبزہ زار ہائے مُطرّا کہ، ہے غضب!
وُہ نازنیں بُتانِ خود آرا کہ ہائے ہائے!
صبر آزما وہ اُن کی نگاہیں کہ حف نظر!
طاقت رُبا وہ اُن کا اشارا کہ ہائے ہائے!
وہ میوہ ہائے تازۂ شیریں کہ، واہ واہ
وہ بادہ ہائے نابِ گوارا کہ ہائے ہائے!
اشعار کی تقطیع
تبصرے