ہم سے خوبانِ جہاں پہلو تہی کرتے رہے (غزل)
ہم سے خوبانِ جہاں پہلو تہی کرتے رہے
ہم ہمیشہ مشقِ از خود رفتگی کرتے رہے
کثرت آرائی خیالِ ما سوا کی وہم تھی
مرگ پر غافل گمانِ زندگی کرتے رہے
داغہائے دل چراغِ خانۂ تاریک تھے
تا مغاکِ قبر پیدا روشنی کرتے رہے
شورِ نیرنگِ بہارِ گلشنِ ہستی، نہ پوچھ
ہم خوشی اکثر رہینِ ناخوشی کرتے رہے
رخصت اے تمکینِ آزارِ فراقِ ہم رہاں
ہو سکا جب تک غمِ واماندگی کرتے رہے
اشعار کی تقطیع
تبصرے