کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیں (غزل)
کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیں
بھولا ہوں حقِّ صحبتِ اہلِ کُنِشت کو
طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسمِ ثواب سے
ٹیڑھا لگا ہے قط قلمِ سرنوشت کو
غالبؔ کچھ اپنی سعی سے کہنا نہیں مجھے
خرمن جلے اگر نہ مَلخ کھائے کشت کو
اشعار کی تقطیع
تبصرے