کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے " (غزل)
کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے "
تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے؟
نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ "ہم ستمگر ہیں "
مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو "بجا" کہیے
وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوے
نگاہِ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
نہیں ذریعۂ راحت جراحتِ پیکاں
وہ زخمِ تیغ ہے جس کو کہ دل کشا کہیے
جو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیے
جو نا سزا کہے اس کو نہ نا سزا کہیے
کہیں حقیقتِ جاں کاہیٔ مرض لکھیے
کہیں مصیبتِ نا سازیٔ دوا کہیے
کبھی شکایتِ رنجِ گراں نشیں کیجے
کبھی حکایتِ صبرِ گریز پا کہیے
رہے نہ جان تو قاتل کو خوں بہا دیجے
کٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے
نہیں نگار کو الفت، نہ ہو، نگار تو ہے!
روانیٔ روش و مستیٔ ادا کہیے
نہیں بہار کو فرصت، نہ ہو بہار تو ہے!
طراوتِ چمن و خوبیٔ ہوا کہیے
سفینہ جب کہ کنارے پہ آ لگا غالبؔ
خدا سے کیا ستم و جورِ ناخدا کہیے!
اشعار کی تقطیع
تبصرے