باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے (غزل)
باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
سایۂ شاخِ گل افعی نظر آتا ہے مجھے
جوہرِ تیغ بہ سر چشمۂ دیگر معلوم
ہوں میں وہ سبزہ کہ زہرآب اگاتا ہے مجھے
مدعا محوِ تماشائے شکستِ دل ہے
آئینہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کفِ خاک
آسماں بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
زندگی میں تو وہ محفل سے اُٹھا دیتے تھے
دیکھوں اب مر گئے پر کون اُٹھاتا ہے مجھے
اشعار کی تقطیع
تبصرے