روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہر یار کی (غزل)
روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہر یار کی
اترائے کیوں نہ خاک سرِ رہ گزار کی
جب اس کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ
لوگوں میں کیوں‌ نمود نہ ہو لالہ زار کی
بھوکے نہیں ہیں سیرِ گلستاں کے ہم ولے
کیوں کر نہ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی
اشعار کی تقطیع
تبصرے