کوہ کے ہوں بارِ خاطر گر صدا ہو جائیے (قطعہ)
کوہ کے ہوں بارِ خاطر گر صدا ہو جائیے
بے تکلف اے شرارِ جستہ! کیا ہو جائیے
بیضہ آسا ننگِ بال و پر ہے یہ کنجِ قفس
از سرِ نو زندگی ہو، گر رہا ہو جائیے
اشعار کی تقطیع
تبصرے