نہ حیرت چشمِ ساقی کی، نہ صحبت دورِ ساغر کی (شعر)
نہ حیرت چشمِ ساقی کی، نہ صحبت دورِ ساغر کی
مری محفل میں غالبؔ گردشِ افلاک باقی ہے
اشعار کی تقطیع
تبصرے