ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غم کدہ (قطعہ)
ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غم کدہ
جس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ
ناچار بیکسی کی بھی حسرت اٹھایے
دشوارئ رہ و ستمِ ہم رہاں نہ پوچھ
اشعار کی تقطیع
تبصرے