گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا (شعر)
گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر، سو ہے
اشعار کی تقطیع
تبصرے