مری ہستی فضائے حیرت آبادِ تمنّا ہے (غزل)
مری ہستی فضائے حیرت آبادِ تمنّا ہے
جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
خزاں کیا فصلِ گل کہتے ہیں کس کو؟ کوئی موسم ہو
وہی ہم ہیں، قفس ہے، اور ماتم بال و پر کا ہے
وفاۓ دلبراں ہے اتّفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریادِ دل ہائے حزیں کا کس نے دیکھا ہے
نہ لائی* شوخئ اندیشہ تابِ رنجِ نومیدی
اشعار کی تقطیع
تبصرے