گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے (غزل)
گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے
تب اماں ہجر میں دی بردِ لیالی نے مجھے
نسیہ و نقدِ دو عالم کی حقیقت معلوم
لے لیا مجھ سے مری ہمّتِ عالی نے مجھے
کثرت آرائیِ وحدت ہے پرستارئ وہم
کر دیا کافر ان اصنامِ خیالی نے مجھے
ہوسِ گل کے تصوّر میں بھی کھٹکا نہ رہا
عجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے
اشعار کی تقطیع
تبصرے