غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاں (قطعہ)
غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
بے شانۂ صبا نہیں طُرّہ گیاہ کا
بزمِ قدح سے عیشِ تمنا نہ رکھ، کہ رنگ
صید ز دام جستہ ہے اس دام گاہ کا
رحمت اگر قبول کرے، کیا بعید ہے
شرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا
مقتل کو کس نشاط سے جا تا ہو ں میں، کہ ہے
پُر گل خیالِ زخم سے دامن نگاہ کا
جاں در" ہوائے یک نگہِ گرم" ہے اسدؔ
پروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا
اشعار کی تقطیع
تبصرے