آپ نے مَسَّنیَ الضُّرُّ کہا ہے تو سہی (غزل)
آپ نے مَسَّنی الضُّرُّ کہا ہے تو سہی
یہ بھی اے حضرتِ ایّوب! گِلا ہے تو سہی
رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں سر
ذہن میں خوبئِ تسلیم و رضا ہے تو سہی
ہے غنیمت کہ بہ اُمّید گزر جاۓ گی عُمر
نہ ملے داد، مگر روزِ جزا ہے تو سہی
دوست ہی کوئی نہیں ہے، جو کرے چارہ گری
نہ سہی، لیک تمنّاۓ دوا ہے تو سہی
غیر سے دیکھیے کیا خوب نباہی اُس نے
نہ سہی ہم سے، پر اُس بُت میں وفا ہے تو سہی
نقل کرتا ہوں اسے نامۂ اعمال میں مَیں
کچھ نہ کچھ روزِ ازل تم نے لکھا ہے تو سہی
کبھی آ جاۓ گی کیوں کرتے ہو جلدی غالبؔ
شہرۂ تیزئِ شمشیرِ قضا ہے تو سہی
اشعار کی تقطیع
تبصرے