میرے سنگِ مزار پر فرہاد (غزل)
میرے سنگِ مزار پر فرہاد
رکھ کے تیشہ کہے ہے یا اُستاد
ہم سے بن مرگ کیا جدا ہو ملال
جان کے ساتھ ہے دلِ ناشاد
آنکھیں موند اور سفر عدم کا کر
بس بہت دیکھا عالمِ ایجاد
فکرِ تعمیر میں نہ رہ منعم
زندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد؟
خاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیں
کس خرابہ میں ہم ہوئے آباد
سنتے ہو، ٹک سنو کہ پھر مجھ بعد
نہ سنو گے یہ نالہ و فریاد
لگتی ہے کچھ سموم سی تو نسیم
خاک کس دل جلے کی کی برباد
بھُولا جا ہے غمِ بُتاں میں جی
غرض آتا ہے پھر خدا ہی یاد
تیرے قیدِ قفس کا کیا شکوہ
نالہ اپنے سے، اپنے سے فریاد
ہر طرف ہیں اسیر ہم آواز
باغ ہے گھر ترا تو اے صیّاد
ہم کو مرنا یہ ہے کہ کب ہوں گے
اپنی قیدِ حیات سے آزاد
ایسا ہرزہ ہے وہ کہ اٹھتے صبح
سو جگہ جانا اس کی ہے معتاد
نہیں صورت پزیر نقش اس کا
یوں ہی تصدیق کھینچے ہے بہزاد
خوب ہے خاک سے بزرگاں کی
چاہنا تو مرے تئیں امداد
پر مروّت کہاں اسے اے میر
تو ہی مجھ دل جلے کو کر ناشاد
نامرادی ہو جس پہ پروانہ
وہ جلاتا پھرے چراغِ مراد
اشعار کی تقطیع
تبصرے