ہو آدمی اے چرخ ترکِ گردشِ ایّام کر (غزل)
ہو آدمی اے چرخ ترکِ گردشِ ایّام کر
خاطر سے ہی مجھ مست کی تائیدِ دورِ جام کر
دنیا ہے بے صرفہ نہ ہو رونے میں یا کڑھنے میں تو
نالے کو ذکرِ صبح کر گریے کو وردِ شام کر
مستِ جنوں رہ روز و شب شہرہ ہو شہر و دشت میں
مجلس میں اپنی نقلِ خوش زنجیر کا بادام کر
جتنی ہو ذلّت خلق میں اتنی ہے عزّت عشق میں
ناموس سے آ در گذر بے ننگ ہو اور نام کر
مر رہ کہیں بھی میر جا سر گشتہ پھرنا تا کجا
ظالم کسو کا سن کہا کوئی گھڑی آرام کر
اشعار کی تقطیع
تبصرے