یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صبح گاہی​ (غزل)
یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صبح گاہی​
کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی​
تری زندگی اسی سے، تری آبرو اسی سے​
جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی​
نہ دیا نشانِ منزل مجھے اے حکیم تو نے​
مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے، تو نہ رہ نشیں نہ راہی​
مرے حلقۂ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں​
وہ گدا کہ جانتے ہیں رہ و رسم کج کلاہی​
یہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تو کر​
کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق ِخانقاہی​
تو ہما کا ہے شکاری، ابھی ابتدا ہے تیری​
نہیں مصلحت سے خالی یہ جہانِ مرغ و ماہی​
تو عرب ہو یا عجم ہو، ترا لَا اِلٰہ اِلاَّ
لغتِ غریب، جب تک ترا دل نہ دے گواہی​
اشعار کی تقطیع
تبصرے