کیا زخم ہے وہ زخم کہ مرہم نہیں جس کا - مرثیہ (نظم)
کیا زخم ہے وہ زخم کہ مرہم نہیں جس کا
کیا درد ہے جز دل کوئی محرم نہیں جس کا
کیا داغ ہے جلنا کوئی دم کم نہیں جس کا
کیا غم ہے کہ آخر کبھی ماتم نہیں جس کا
کس داغ میں صدمہ ہے فراقِ تن و جاں کا
وہ داغ ضعیفی میں ہے، فرزندِ جواں کا
جب باغِ جہاں اکبرِ ذی جاہ سے چُھوٹا
پیری میں برابر کا پسر شاہ سے چُھوٹا
فرزندِ جواں، ابنِ اسد اللہ سے چُھوٹا
کیا اخترِ خورشید لقا ماہ سے چُھوٹا
تصویرِ غم و درد سراپا ہوئے شپّیر
ناموس میں ماتم تھا کہ تنہا ہوئے شپّیر
ہے ہے علی اکبر کا ادھر شور تھا گھر میں
اندھیر تھی دنیا، شہِ والا کی نظر میں
فرماتے تھے سوزش ہے عجب داغِ پسر میں
اٹھتا ہے دھواں، آگ بھڑکتی ہے جگر میں
پیغامِ اجل اکبرِ ناشاد کا غم ہے
عاجز ہے بشر جس سے وہ اولاد کا غم ہے
اس گیسوؤں والے کے بچھڑ جانے نے مارا
افسوس بڑھا ضعف، گھٹا زور ہمارا
دنیا میں محمد کا یہ ماتم ہے دوبارا
عالم ہے عجب جانِ جہاں آج سدھارا
چادر بھی نہیں لاشۂ فرزندِ حَسیں پر
کس عرش کے تارے کو سلا آئے زمیں پر
پیری پہ مری رحم کر اے خالقِ ذوالمَن
طے جلد ہو اب مرحلۂ خنجر و گردن
قتلِ علی اکبر کی خوشی کرتے ہیں دشمن
تجھ پر مرے اندوہ کا سب حال ہے روشن
مظلوم ہوں، مجبور ہوں، مجروح جگر ہوں
تو صبر عطا کر مجھے، یا رب کہ بشر ہوں
پھر لاشۂ اکبر نظر آئے تو نہ روؤں
برچھی جو کلیجے میں در آئے تو نہ روؤں
دل دردِ محبت سے بھر آئے تو نہ روؤں
سو بار جو منہ تک جگر آئے تو نہ روؤں
شکوہ نہ زباں سے غمِ اولاد میں نکلے
دم تن سے جو نکلے تو تری یاد میں نکلے
اک عمر کی دولت تھی جسے ہاتھ سے کھویا
ہر وقت رہا، میں تری خوشنودی کا جویا
پالا تھا جسے گود میں وہ خاک پہ سویا
میں لاش پہ بھی خوف سے تیرے نہیں رویا
قسمت نے جوانوں کو سبکدوش کیا ہے
مجھ کو تو اجل نے بھی فراموش کیا ہے
یہ تازہ جواں تھا مری پیری کا سہارا
آگے مرے اعدا نے اسے نیزے سے مارا
ناشاد و پُر ارمان اٹھا وہ مرا پیارا
اٹھارھواں تھا سال کہ دنیا سے سدھارا
سمجھوں گا میں روئے مجھے روئیں گے اس کو
یہ ہے وہ جواں مرگ کہ سب روئیں گے اس کو
اس حال سے روتے ہوئے داخل ہوئے گھر میں
تر تھی تنِ انور کی قبا خونِ پسر میں
سوزش دلِ پُر داغ میں ہے، درد جگر میں
خم آ گیا تھا بارِ مصیبت سے کمر میں
پنہاں تھا جو فرزندِ جگر بند نگہ سے
موتی رُخِ انور سے ٹپکتے تھے مژہ سے
بانو سے کہا رو کے خوشا حال تمھارا
صرفِ رہِ معبود ہوا مال تمھارا
مقبول ہوئی نذر یہ اقبال تمھارا
سجدے کرو، پروان چڑھا لال تمھارا
دل خوں ہے کلیجے پہ سناں کھا کے مرے ہیں
ہم اُس کی امانت اسے پہنچا کے پھرے ہیں
جیتے تھے تو آخر علی اکبر کبھی مرتے
گر بیاہ بھی ہوتا تو زمانے سے گزرتے
سینے سے کلیجے کو جدا ہم جو نہ کرتے
بگڑی ہوئی امّت کے نہ پھر کام سنورتے
گر حلق سے اس شیر کی شمشیر نہ ملتی
یہ اجر نہ ہاتھ آتا یہ توقیر نہ ملتی
صاحب، تمھیں ہم سے ہے محبت تو نہ رونا
بیٹا تو گیا، صبر کی دولت کو نہ کھونا
اکبر نے تو آباد کیا، قبر کا کونا
ہم بھی ہوں اگر ذبح تو بیتاب نہ ہونا
جز نفع ضرر طاعتِ باری میں نہیں ہے
جو صبر میں لذّت ہے وہ زاری میں نہیں ہے
اکبر نے تو جاں اپنی جوانی میں گنوائی
تھی کون سی ایذا جو نہ اس لال نے پائی
افسوس کہ پیری میں ہمیں موت نہ آئی
تلوار نہ سر پر نہ سناں سینے پہ کھائی
غم کھائیں گے خونِ دلِ مجروح پئیں گے
کیا زور ہے جب تک وہ جِلائے گا جئیں گے
دستور ہے مرتا ہے پدر آگے پسر کے
پہلے وہ اٹھے تھامنے والے تھے جو گھر کے
اب کون اٹھائے گا جنازے کو پدر کے
افسوس لحد بھی نہ ملے گی ہمیں مر کے
سر نیزے پہ اور دشت میں تن ہوگا ہمارا
خاک اڑ کے پڑے گی یہ کفن ہوگا ہمارا
زینب سے کہا رختِ کُہن، لاؤ تو پہنیں
ملبوسِ شہنشاہِ زمن، لاؤ تو پہنیں
موت آ گئی اب سر پہ کفن، لاؤ تو پہنیں
کپڑے جو پھٹے ہوں وہ بہن، لاؤ تو پہنیں
سر کٹ کے جو تن وادیِ پُر خار میں رہ جائے
شاید یہی پوشاک تنِ زار میں رہ جائے
اللہ نے بچپن میں مرے ناز اٹھائے
طفلی میں کسی نے شرف ایسے نہیں پائے
عریاں تھا کہ جبرئیلِ امیں عرش سے آئے
فردوس کے حلّے مرے پہنانے کو لائے
بیکس ہوں، دل افگار ہوں آوارہ وطن ہوں
میں ہوں وہی شبیر کہ محتاجِ کفن ہوں
جو مصلحت اُس کی ہے نہیں رحم سے خالی
صابر کو عطا کرتا ہے وہ رتبۂ عالی
وارث وہی بچّوں کا وہی رانڈوں کا والی
مقہور ہے وہ جس نے بنا ظلم کی ڈالی
قاتل کا دمِ ذبح بھی شکوہ نہ کروں گا
یہ بھی کرم اس کا ہے کہ مظلوم مروں گا
ناشاد بہن پاؤں پہ گر کر یہ پکاری
ماں جائے برادر، تری غربت کے میں واری
بن بھائی کے ہوتی ہے یدُاللہ کی پیاری
گھر لٹتا ہے کیوں کر نہ کروں گریہ و زاری
رونے کو نجف تک بھی کُھلے سر نہ گئی میں
خالی یہ بھرا گھر ہوا اور مر نہ گئی میں
بچپن تھا کہ امّاں سے ہوئی پہلے جدائی
بابا کے لیے ماتمی صف میں نے بچھائی
روتی تھی پدر کو کہ سفر کر گئے بھائی
یثرب بھی چُھٹا دیس سے پردیس میں آئی
غم دیکھوں بڑے بھائی کا ماں باپ کو روؤں
قسمت میں یہ لکّھا تھا کہ اب آپ کو روؤں
فرمایا کہ دنیا میں نہیں موت سے چارا
رہ جاتے ہیں ماں باپ بچھڑ جاتا ہے پیارا
ہجرِ علی اکبر تھا کسی کو بھی گوارا
وہ مر گئے اور کچھ نہ چلا زور ہمارا
دیکھا جسے آباد وہ گھر خاک بھی دیکھو
اب خاتمۂ پنجتنِ پاک بھی دیکھو
کس کس کی نہ دولت پہ زوال آ گیا زینب
پابندِ رضا تھا تو شرف پا گیا زینب
دنیا سے گیا جو تنِ تنہا گیا زینب
کِھلتا نہیں وہ پھول جو مرجھا گیا زینب
جو منزلِ ہستی سے گیا پھر نہیں ملتا
یہ راہ وہ ہے جس کا مسافر نہیں ملتا
میں کون ہوں اِک تشنہ لب و بیکس و محتاج
بندہ تھا خدا کا سو ہوا ہوں میں طلب آج
وہ کیا ہوئے جو لوگ تھے کونین کے سرتاج
نہ حیدرِ کرّار ہیں نہ صاحبِ معراج
کچھ پیٹنے رونے سے نہ ہاتھ آئیگا زینب
آیا ہے جو اس دہر میں وہ جائیگا زینب
کس طرح وہ بیکس نہ اجل کا ہو طلب گار
ناصر نہ ہو جس کا کوئی دنیا میں نہ غمخوار
اک جانِ حزیں لاکھ مصیبت میں گرفتار
اکبر ہیں نہ قاسم ہیں نہ عبّاسِ علمدار
کوشش ہے کہ سجدہ تہِ شمشیر ادا ہو
تنہائی کا مرنا ہے خدا جانیے کیا ہو
قاتل جو چُھری خشک گلے پر مرے پھیرے
خالص رہے نیّت کوئی تشویش نہ گھیرے
کٹنے میں رگوں کے یہ سخن لب پہ ہو میرے
قربان حسین ابنِ علی نام پہ تیرے
بہنوں کی نہ ہو فکر نہ بچّوں کی خبر ہو
اس صبر سے سر دوں کہ مہم عشق کی سر ہو
گو تیسرا فاقہ ہے مگر ہے مجھے سیری
گھبراتا ہوں ہوتی ہے جو سر کٹنے میں دیری
کچھ غم نہیں امّت نے نظر مجھ سے جو پھیری
راضی رہے معبود یہی فتح ہے میری
ہدیہ مرا مقبول ہو درگاہ میں اس کی
آباد وہ گھر ہے جو لُٹے راہ میں اس کی
فرما کے یہ ہتھیار سجے آپ نے تن پر
غُل پڑ گیا شاہِ شہدا چڑھتے ہیں رن پر
احمد کی قبا آپ نے پہنی جو بدن پر
پیدا ہوا اک جلوۂ نَو رختِ کہن پر
اللہ رے خوشبو تنِ محبوبِ خدا کی
پھولوں کی مہک آ گئی کلیوں سے قبا کی
وہ پھول سے رخسار گلابی وہ عمامہ
تعریف میں خود جس کی سر افگندہ ہے خامہ
وہ زرد عبا نور کی وہ نور کا جامہ
برسوں جو لکھیں ختم نہ ہو مدح کا نامہ
کپڑے تنِ گلرنگ کے خوشبو میں بسے تھے
ٹوٹی کمر امّت کی شفاعت پہ کسے تھے
شمشیرِ یداللہ لگائی جو کمر سے
سر پیٹ کے زینب نے ردا پھینک دی سر سے
سمجھاتے ہوئے سب کو چلے آپ جو گھر سے
بچّوں کی طرف تکتے تھے حسرت کی نظر سے
اُس غُل میں جدا شہ سے نہ ہوتی تھی سکینہ
پھیلائے ہوئے ہاتھوں کو روتی تھی سکینہ
شہ کہتے تھے بی بی ہمیں رو کر نہ رلاؤ
پھر پیار کریں گے ہم تمھیں منہ آگے تو لاؤ
وہ کہتی تھی ہمراہ مجھے لے لو تو جاؤ
میں کیا کروں میداں میں اگر جا کے نہ آؤ
نیند آئے گی جب آپ کی بُو پاؤں گی بابا
میں رات کو مقتل میں چلی آؤں گی بابا
فرمایا نکلتی نہیں سیدانیاں باہر
چھاتی پہ سلائے گی تمھیں رات کو مادر
وہ کہتی تھی سوئیں گے کہاں پھر اعلی اصغر
فرماتے تھے بس ضد نہ کرو صدقے میں تم پر
شب ہوئے گی اور دشت میں ہم ہوئینگے بی بی
اصغر مرے ساتھ آج وہیں سوئینگے بی بی
اشعار کی تقطیع
تبصرے