آواز کے سائے (نظم)
خبر نہیں تم کہاں ہو یارو
ہماری اُفتادِ روز و شب کی
تمہیں خبر مِل سکی کہ تم بھی
رہینِ دستِ خزاں ہو یارو
دِنوں میں تفرِیق مِٹ چُکی ہے
کہ وقت سے خُوش گُماں ہو یارو
ابھی لڑکپن کے حوصلے ہیں
کہ بے سر و سائباں ہو یارو
ہماری اُفتادِ روز و شب کی
نہ جانے کتنی ہی بار اب تک
دھنک بنی اَور بکھر چُکی ہے
عُروسِ شب اپنی خلوتوں سے
سحر کو محرُوم کر چُکی ہے
دہکتے صحرا میں دُھوپ کھا کر
شفق کی رنگت اُتر چُکی ہے
بہار کا تعزیہ اُٹھائے
نگارِ یک شب گُذر چُکی ہے
اُمیدِ نو روز ہے کہ تُم بھی
بہار کے نوحہ خواں ہو یارو
تُمھاری یادوں کے قافلے کا
تھکا ہؤا اجنبی مُسافر
ہر اِک کو آواز دے رہا ہے
خفا ہو یا بےزباں ہو یارو
اشعار کی تقطیع
تبصرے