عہد وفا​ (آزاد نظم)
یہی شاخ تم جس کے نیچے کسی کے لیے چشم نم ہو، یہاں اب سے کچھ سال پہلے مجھے ایک چھوٹی سی بچی ملی تھی جسے میں نے آغوش میں لے کے پوچھا تھا بیٹی: یہاں کیوں کھڑی رو رہی ہو، مجھے اپنے بوسیدہ آنچل میں پھولوں کے گہنے دکھا کر وہ کہنے لگی میرا ساتھی، ادھر، اس نے انگلی اٹھا کر بتایا، ادھر اس طرف ہی جدھر اونچے محلوں کے گنبد، ملوں کی سیہ چمنیاں، آسماں کی طرف سر اُٹھائے کھڑی ہیں، یہ کہہ کر گیا ہے کہ میں سونے چاندی کے گہنے ترے واسطے لینے جاتا ہوں رامی!
اشعار کی تقطیع
تبصرے