کلام شاعر قسم
گل بدنی جوش ملیح آبادی نظم
ڈوبتے کی پکار جوش ملیح آبادی نظم
وہ دشمنِ جاں، جان سے پیارا بھی کبھی تھا احمد فراز غزل
گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا​ فیض احمد فیض غزل
واقف نہیں اِس راز سے آشفتہ سراں بھی مصطفیٰ زیدی غزل
بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں‌ نہیں ‌دیتے فیض احمد فیض غزل
کیا زخم ہے وہ زخم کہ مرہم نہیں جس کا - مرثیہ میر انیس نظم
کیا میں بھی پریشانیِ خاطر سے قریں تھا میر تقی میر غزل
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
دربار میں اب سطوتِ شاہی کی علامت​ فیض احمد فیض غزل
پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہوں میں بھی تماشائیٔ نیرنگِ تمنا مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جس دن سے کہ ہم خستہ گرفتارِ بلا ہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہم بے خودئ عشق میں کر لیتے ہیں سجدے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جوں شمع ہم اک سوختہ سامانِ وفا ہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
مرثیہ مرزا اسد اللہ خان غالب نظم
ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
مت مردُمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
اس وقت تو یُوں لگتا ہے​ فیض احمد فیض نظم