کلام شاعر قسم
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا میر تقی میر غزل
آئی ہے اُس کے کُوچے سے ہوکر صبا کُچھ اور میر تقی میر غزل
پھر چرخ زن ہے شیب پہ دورِ جواں کی یاد ​ جوش ملیح آبادی نظم
حی علیٰ خیر العمل جوش ملیح آبادی نظم
ڈکیتی جوش ملیح آبادی نظم
کافر بنوں گا کُفر کا ساماں تو کیجئے جوش ملیح آبادی غزل
ہم کافروں کی مشقِ سُخَن ہائے گُفتَنی مصطفیٰ زیدی غزل
عشوؤں کو چین ہی نہیں آفت کئے بغیر جوش ملیح آبادی غزل
حیرت ہے، آہِ صبح کو ساری فضا سنے جوش ملیح آبادی غزل
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں الطاف حسین حالی غزل
کیا دن تھے وہ کہ یاں بھی دلِ آرمیدہ تھا میر تقی میر غزل
پل میں جہاں کو دیکھتے میرے ڈبو چکا میر تقی میر غزل
ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفائے گُل مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
گر تُجھ کو ہے یقینِ اجابت ، دُعا نہ مانگ مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
بیمِ رقیب سے نہیں کرتے وداعِ ہوش مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
فارغ مجھے نہ جان کہ مانندِ صبح و مہر مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولے مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
لو ہم مریضِ عشق کے بیمار دار ہیں مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
معزولئ تپش ہوئی افرازِ انتظار مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
گلشن میں بندوبست بہ رنگِ دگر ہے آج مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاں مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
رفتارِ عمر قطعِ رہِ اضطراب ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہندوستان سایۂ گل پائے تخت تھا مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غم کدہ مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہ مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ضعفِ جنوں کو وقتِ تپش در بھی دور تھا مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
آئینہ دیکھ، اپنا سا منہ لے کے رہ گئے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
اے خوش نصیب! کاش قضا کا پیام ہو مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
عجز و نیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پر مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
مستی، بہ ذوقِ غفلتِ ساقی ہلاک ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہر یار کی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
رونے سے اور عشق میں بےباک ہو گئے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بھولے سے کاش وہ ادھر آئیں تو شام ہو مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
واں اس کو ہولِ دل ہے تو یاں میں ہوں شرمسار مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
یوں بعدِ ضبطِ اشک پھروں گرد یار کے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
خود جان دے کے روح کو آزاد کیجیے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
متفرقات مرزا اسد اللہ خان غالب نظم
گوڑگانویں کی ہے جتنی رعیّت، وہ یک قلم مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
درباری مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
روزہ مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
چہار شنبہ آخرِ ماہِ صفر مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
ہائے ہائے مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
بیانِ مصنّف (گزارشِ غالبؔ) مرزا اسد اللہ خان غالب نظم
ہے وصل ہجر عالمِ تمکین و ضبط میں مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
سیماب پشت گرمیِ آئینہ دے ہے ہم مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کل کے لئے کر آج نہ خسّت شراب میں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
عہدے سے مدِح‌ ناز کے باہر نہ آ سکا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
لوں وام بختِ خفتہ سے یک خوابِ خوش ولے مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
مجھ کو دیارِ غیر میں مارا، وطن سے دور مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
اے مرتضیٰ جوش ملیح آبادی نظم
حیرت ہے، آہِ صبح کو ساری فضا سنے جوش ملیح آبادی غزل
شیریں زبانیوں کے دریچے اُجڑ گئے مصطفیٰ زیدی نظم
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل مرزا اسد اللہ خان غالب نظم
ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
یا رب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا داغ دہلوی غزل
محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار مرزا اسد اللہ خان غالب غزل