کلام شاعر قسم
افسوس شراب پی رہا ہوں تنہا جوش ملیح آبادی رباعی
یہ دُنیا ذہن کی بازی گری معلُوم ہوتی ہے جوش ملیح آبادی غزل
نکلے چشمہ جو کوئی جوشِ زناں پانی کا میر تقی میر غزل
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا میر تقی میر غزل
آدمی مصطفیٰ زیدی نظم
وہ تو پتھر پہ بھی گزرے نہ خدا ہونے تک احمد فراز غزل
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں داغ دہلوی غزل
آئی ہے اُس کے کُوچے سے ہوکر صبا کُچھ اور میر تقی میر غزل
مُوئے مِژگاں سے تِرے سینکڑوں مرجاتے ہیں امیر مینائی غزل
دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا ناصر کاظمی غزل
کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے مصطفیٰ زیدی غزل
بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا محسن نقوی غزل
صبحِ آزادی فیض احمد فیض نظم
بے دِلی کیا یونہی دن گزر جائیں گے جون ایلیا غزل
مسجدِ قرطبہ علامہ اقبال نظم
کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا افتخار عارف غزل
معترض فرشتوں کی یاد دہانی جوش ملیح آبادی نظم
لالہ صحرا علامہ اقبال نظم
تنہائی فیض احمد فیض نظم
غنچہ جوش ملیح آبادی رباعی
گل بدنی جوش ملیح آبادی نظم
پھر چرخ زن ہے شیب پہ دورِ جواں کی یاد ​ جوش ملیح آبادی نظم
حی علیٰ خیر العمل جوش ملیح آبادی نظم
ڈوبتے کی پکار جوش ملیح آبادی نظم
ڈکیتی جوش ملیح آبادی نظم
وہ دشمنِ جاں، جان سے پیارا بھی کبھی تھا احمد فراز غزل
نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن احمد فراز غزل
ہم کہ منت کشِ صیاد نہیں ہونے کے احمد فراز غزل
کافر بنوں گا کُفر کا ساماں تو کیجئے جوش ملیح آبادی غزل
گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا​ فیض احمد فیض غزل
وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا پروین شاکر غزل
مرحلے شوق کے دُشوار ہُوا کرتے ہیں محسن نقوی غزل
ہر دھڑکن ہیجانی تھی، ہر خاموشی طوفانی تھی جون ایلیا غزل
دل رہینِ غمِ جہاں ہے آج فیض احمد فیض قطعہ
ارض و سما میں عشق ہے ساری، چاروں اور بھرا ہے عشق میر تقی میر غزل
گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا احمد فراز غزل
عشق تو ایک کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے احمد فراز غزل
ہم، حُسن پرستی کے قرینوں کے لیے صادقین نقوی رباعی
لفظوں میں فسانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ احمد فراز رباعی
سبطینِ نبی یعنی حَسن اور حُسین ابراہیم ذوق رباعی
حضرت انسان علامہ اقبال نظم
اتفاق اختر الایمان نظم
ڈاسنہ اسٹیشن کا مسافر اختر الایمان نظم
بنتِ لمحات اختر الایمان نظم
بے تعلقی اختر الایمان نظم
کوزہ گر​ اختر الایمان آزاد نظم
عہد وفا​ اختر الایمان آزاد نظم
آواز کے سائے مصطفیٰ زیدی نظم
واقف نہیں اِس راز سے آشفتہ سراں بھی مصطفیٰ زیدی غزل
ہم کافروں کی مشقِ سُخَن ہائے گُفتَنی مصطفیٰ زیدی غزل
فرشِ نومیدیِ دیدار فیض احمد فیض نظم
جرسِ گُل کی صدا فیض احمد فیض نظم
خورشیدِ محشر کی لو فیض احمد فیض نظم
نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی، نہ کسی کو فکر رفو کی ہے فیض احمد فیض غزل
کیے آرزو سے پیماں جو مآل تک نہ پہنچے فیض احمد فیض غزل
کس حرف پہ تو نے گوشۂ لب اے جانِ جہاں غماز کیا فیض احمد فیض غزل
غم نہ کر، غم نہ کر فیض احمد فیض آزاد نظم
یہاں سے شہر کو دیکھو تو حلقہ در حلقہ فیض احمد فیض غزل
لہو کا سراغ​ فیض احمد فیض نظم
من مورکھ مٹی کا مادھو، ہر سانچے میں ڈھل جاتا ہے میرا جی غزل
لب پر ہے فریاد کہ ساقی یہ کیسا میخانہ ہے میرا جی غزل
نہیں سنتا دلِ ناشاد میری میرا جی غزل
جب تری جان ہو گئی ہوگی​ جون ایلیا غزل
جنگل کی شہزادی جوش ملیح آبادی نظم
عشوؤں کو چین ہی نہیں آفت کئے بغیر جوش ملیح آبادی غزل
حیرت ہے، آہِ صبح کو ساری فضا سنے جوش ملیح آبادی غزل
بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں‌ نہیں ‌دیتے فیض احمد فیض غزل
یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ فیض احمد فیض غزل
نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا فیض احمد فیض غزل
میرے ملنے والے​ فیض احمد فیض نظم
وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا فیض احمد فیض غزل
تجھے پکارا ہے بے ارادہ فیض احمد فیض غزل
ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول​ فیض احمد فیض نظم
میرے دل میرے مسافر فیض احمد فیض آزاد نظم
گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام فیض احمد فیض نظم
آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال فیض احمد فیض نظم
شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے افتخار عارف نظم
آذان جوش ملیح آبادی نظم
کیا زخم ہے وہ زخم کہ مرہم نہیں جس کا - مرثیہ میر انیس نظم
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلال روزِ حساب تیرا جوش ملیح آبادی غزل
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں الطاف حسین حالی غزل
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے علامہ اقبال غزل
میں اُسے واقفِ الفت نہ کروں ن م راشد نظم
یگانگت میرا جی آزاد نظم
پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن علامہ اقبال غزل
یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صبح گاہی​ علامہ اقبال غزل
متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی​ علامہ اقبال غزل
ستم سکھلائے گا رسمِ وفا، ایسے نہیں ہوتا فیض احمد فیض غزل
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی فیض احمد فیض نظم
زنداں کی ایک شام فیض احمد فیض نظم
کیا دن تھے وہ کہ یاں بھی دلِ آرمیدہ تھا میر تقی میر غزل
کیا مصیبت زدہ دل مائلِ آزار نہ تھا میر تقی میر غزل
پل میں جہاں کو دیکھتے میرے ڈبو چکا میر تقی میر غزل
ہو آدمی اے چرخ ترکِ گردشِ ایّام کر میر تقی میر غزل
جی میں ہے یادِ رخ و زلفِ سیہ فام بہت میر تقی میر غزل
لوگ بہت پوچھا کرتے ہیں کیا کہیے میاں کیا ہے عشق میر تقی میر غزل
شبِ ہجر میں کم تظلّم کیا میر تقی میر غزل
کیا میں بھی پریشانیِ خاطر سے قریں تھا میر تقی میر غزل
گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے فیض احمد فیض غزل
میرے سنگِ مزار پر فرہاد میر تقی میر غزل
گدا، دستِ اہلِ کرَم دیکھتے ہیں میرزا رفیع سودا غزل
دہَن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے خواجہ حیدر علی آتش غزل
جب وہ بُت ہمکلام ہوتا ہے داغ دہلوی غزل
رفعت (سانیٹ) ن م راشد نظم
خط منظوم بنام علائی مرزا اسد اللہ خان غالب نظم
آپ نے مَسَّنیَ الضُّرُّ کہا ہے تو سہی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بہ نالۂ دلِ دل بستگی فراہم کر مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
اسدؔ! یہ عجز و بے سامانئِ فرعون توَام ہے مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
مانعِ دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جراحت تحفہ، الماس ارمغاں، داغِ جگر ہدیہ مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفائے گُل مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
گر تُجھ کو ہے یقینِ اجابت ، دُعا نہ مانگ مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
دیکھنے میں ہیں گرچہ دو، پر ہیں یہ دونوں یار ایک مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تک مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بیمِ رقیب سے نہیں کرتے وداعِ ہوش مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
رُخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیِ شمع مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جادۂ رہ خُور کو وقتِ شام ہے تارِ شعاع مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
نہ لیوے گر خسِ جَوہر طراوت سبزۂ خط سے مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
اے اسدؔ ہم خود اسیرِ رنگ و بوئے باغ ہیں مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
مُژدہ ، اے ذَوقِ اسیری ! کہ نظر آتا ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نہ گلِ نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
وسعتِ سعیِ کرم دیکھ کہ سر تا سرِ خاک مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز! مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
فارغ مجھے نہ جان کہ مانندِ صبح و مہر مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیاز مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
جنوں کی دست گیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
صفائے حیرتِ آئینہ ہے سامانِ زنگ آخر مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوار مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولے مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
ہلاکِ بے خبری نغمۂ وجود و عدم مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
لو ہم مریضِ عشق کے بیمار دار ہیں مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
معزولئ تپش ہوئی افرازِ انتظار مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
گلشن میں بندوبست بہ رنگِ دگر ہے آج مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
رہا گر کوئی تا قیامت سلامت مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شراب مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
شب کہ ذوقِ گفتگو سے تیرے، دل بے تاب تھا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
عیب کا دریافت کرنا، ہے ہنر مندی اسدؔ مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
بہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
1857 مرزا اسد اللہ خان غالب نظم
پھر وہ سوئے چمن آتا ہے خدا خیر کرے مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
شکوۂ یاراں غبارِ دل میں پنہاں کر دیا مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاں مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
سرمۂ مفتِ نظر ہوں مری قیمت یہ ہے مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
لکھنؤ آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنی مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہ مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
رفتارِ عمر قطعِ رہِ اضطراب ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دربار میں اب سطوتِ شاہی کی علامت​ فیض احمد فیض غزل
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
کار گاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
رحم کر ظالم کہ کیا بودِ چراغِ کشتہ ہے مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
مری ہستی فضائے حیرت آبادِ تمنّا ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
ایک جا حرفِ وفا لکّھا تھا، سو* بھی مٹ گیا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے* پوچھو مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہندوستان سایۂ گل پائے تخت تھا مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
نہ پوچھ حال اس انداز، اس عتاب کے ساتھ مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غم کدہ مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہ مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
کہوں کیا رنگ اس گل کا، اہا ہا ہا اہا ہا ہا بہادر شاہ ظفر غزل
رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف! مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
فنا کو عشق ہے بے مقصداں حیرت پرستاراں مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
ضعفِ جنوں کو وقتِ تپش در بھی دور تھا مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
آئینہ دیکھ، اپنا سا منہ لے کے رہ گئے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
شب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
لب خشک در تشنگی، مردگاں کا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
وہ میری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
اے خوش نصیب! کاش قضا کا پیام ہو مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
قطرۂ مے بس کہ حیرت سے نفَس پرور ہوا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
درد منت کشِ دوا نہ ہوا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
گر نہ ‘اندوہِ شبِ فرقت ‘بیاں ہو جائے گا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
لطفِ نظارۂ قاتل دمِ بسمل آئے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لئے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
مستعدِّ قتلِ یک عالم ہے جلادِ فلک مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
صبا لگا وہ طمانچہ طرف سے بلبل کے مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
نہ حیرت چشمِ ساقی کی، نہ صحبت دورِ ساغر کی مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
زندانِ تحمل ہیں مہمانِ تغافل ہیں مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
عجز و نیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پر مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہجومِ نالہ ، حیرت عاجزِ عرضِ یک افغاں ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
سیاہی جیسے گر جاوے دمِ تحریر کاغذ پر مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
ہوں میں بھی تماشائیٔ نیرنگِ تمنا مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
ہم کہ ٹہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد فیض احمد فیض غزل
آمدِ سیلابِ طوفانِ صدائے آب ہے مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
لبِ عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
مستی، بہ ذوقِ غفلتِ ساقی ہلاک ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کوہ کے ہوں بارِ خاطر گر صدا ہو جائیے مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہر یار کی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟ مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
حسنِ بے پروا خریدارِ متاعِ جلوہ ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
عرضِ نازِ شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نشہ ہا شادابِ رنگ و ساز ہا مستِ طرب مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
رونے سے اور عشق میں بےباک ہو گئے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے " مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
زبسکہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کبھی نیکی بھی اس کے جی میں ، گر آ جائے ہے ، مجھ سے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
یاد ہے شادی میں بھی ، ہنگامۂ "یا رب" ، مجھے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بھولے سے کاش وہ ادھر آئیں تو شام ہو مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
واں اس کو ہولِ دل ہے تو یاں میں ہوں شرمسار مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ملی نہ وسعتِ جولان یک جنوں ہم کو مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
ابر روتا ہے کہ بزمِ طرب آمادہ کرو مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرمِ تماشا ہو مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصل مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
میر کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔ مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جس دن سے کہ ہم خستہ گرفتارِ بلا ہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
اپنا احوالِ دلِ زار کہوں یا نہ کہوں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہم بے خودئ عشق میں کر لیتے ہیں سجدے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نیم رنگی جلوہ ہے بزمِ تجلی رازِ دوست مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بسکہ حیرت سے ز پا افتادہِ زنہار ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
یوں بعدِ ضبطِ اشک پھروں گرد یار کے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہم زباں آیا نظر فکرِ سخن میں تو مجھے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ضبط سے مطلب بجز وارستگی دیگر نہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
صاف ہے ازبسکہ عکسِ گل سے گلزارِ چمن مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بسکہ ہیں بدمستِ بشکن بشکنِ میخانہ ہم مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دعوۂ عشقِ بتاں سے بہ گلستاں گل و صبح مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
اس جور و جفا پر بھی بدظن نہیں ہم تجھ سے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کس کی برقِ شوخیِ رفتار کا دلدادہ ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
سکوت و خامشی اظہارِ حالِ بے زبانی ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
درد ہو دل میں تو دوا کیجے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہم سے خوبانِ جہاں پہلو تہی کرتے رہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
خود جان دے کے روح کو آزاد کیجیے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نمائش پردہ دارِ طرز بیدادِ تغافل ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
یونہی افزائشِ وحشت کے جو ساماں ہوں گے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
وفا جفا کی طلب گار ہوتی آئی ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نسیمِ صبح جب کنعاں میں بوئے پیرَہن لائی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نہ پوچھ حال اس انداز اس عتاب کے ساتھ مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
حسنِ بے پروا گرفتارِ خود آرائی نہ ہو مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
وضعِ نیرنگیِ آفاق نے مارا ہم کو مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نالے دل کھول کے دو چار کروں یا نہ کروں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جوں شمع ہم اک سوختہ سامانِ وفا ہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کرم ہی کچھ سببِ لطف و التفات نہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
خزینہ دارِ محبت ہوئی ہوائے چمن مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بدتر از ویرانہ ہے فصلِ خزاں میں صحنِ باغ مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
آفت آہنگ ہے کچھ نالۂ بلبل ورنہ مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
متفرقات مرزا اسد اللہ خان غالب نظم
متفرقات مرزا اسد اللہ خان غالب نظم
گوڑگانویں کی ہے جتنی رعیّت، وہ یک قلم مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
اے جہاں آفریں خدائے کریم مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
ایک اہلِ درد نے سنسان جو دیکھا قفس مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
درباری مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
سہل تھا مُسہل ولے یہ سخت مُشکل آ پڑی مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
شریکِ غالبؔ مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
قطعہ تاریخ مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
قطعہ تاریخ مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
قطعہ تاریخ مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
طائرِ دل مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
روزہ مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
چہار شنبہ آخرِ ماہِ صفر مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
بیسنی روٹی مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
در مدح ڈلی مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
ہائے ہائے مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
گئے وہ دن کہ نا دانستہ غیروں کی وفا داری مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
گزارشِ غالبؔ مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
بیانِ مصنّف (گزارشِ غالبؔ) مرزا اسد اللہ خان غالب نظم
چرخ تک دھوم ہے، کس دھوم سے آیا سہرا مرزا اسد اللہ خان غالب نظم
ہم نشیں تارے ہیں، اور چاند شہاب الدیں خاں مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
خوش ہو اَے بخت کہ ہے آج تِرے سر سہرا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
سلام مرزا اسد اللہ خان غالب نظم
مرثیہ مرزا اسد اللہ خان غالب نظم
تضمین بر غزل بہادر شاہ ظفر مرزا اسد اللہ خان غالب نظم
دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کیوں نہ ہو چشمِ بتاں محوِ تغافل ، کیوں نہ ہو؟ مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کرے ہے بادہ ، ترے لب سے ، کسبِ رنگِ فروغ مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نہ پُوچھ نسخۂ مرہم جراحتِ دل کا مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے میر انیس رباعی
فریاد کی کوئی لے نہیں ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
خطر ہے رشتۂ الفت رگِ گردن نہ ہو جائے مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
تپش سے میری ، وقفِ کشمکش ، ہر تارِ بستر ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
وہ آ کے ، خواب میں ، تسکینِ اضطراب تو دے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
چاک کی خواہش ، اگر وحشت بہ عریانی کرے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نکتہ چیں ہے ، غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہر قدم دوریٔ منزل ہے نمایاں مجھ سے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
چاہیے اچھوں کو ، جتنا چاہیے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہے وصل ہجر عالمِ تمکین و ضبط میں مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
سیماب پشت گرمیِ آئینہ دے ہے ہم مرزا اسد اللہ خان غالب قطعہ
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نقشِ نازِ بتِ طناز بہ آغوشِ رقیب مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
حسن کوزہ گر نمبر 2 ن م راشد آزاد نظم
حسن کوزہ گر نمبر 3 ن م راشد آزاد نظم
حسن کوزہ گر نمبر 1 ن م راشد آزاد نظم
کب وہ سنتا ہے کہانی میری مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
غنچۂ نا شگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟ مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے درخُور مرے تن میں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
زمانہ سخت کم آزار ہے، بہ جانِ اسدؔ مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دل لگا کر لگ گیا اُن کو بھی تنہا بیٹھنا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشتِ قیس میں آنا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کل کے لئے کر آج نہ خسّت شراب میں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
عشق تاثیر سے نومید نہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
برشکالِ گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
مت مردُمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
پئے نذرِ کرم تحفہ ہے 'شرمِ نا رسائی' کا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گدائے بے سر و پا ہیں مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
ہم سے کھل جاؤ بوَقتِ مے پرستی ایک دن مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
پھر اس انداز سے بہار آئی مرزا اسد اللہ خان غالب نظم
غیر لیں محفل میں بوسے جام کے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
وہ دل کا برا نہ بے وفا تھا محسن نقوی غزل
جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے احمد فراز غزل
مہرباں ہو کے بلا لو مجھے، چاہو جس وقت مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
عہدے سے مدِح‌ ناز کے باہر نہ آ سکا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
آبرو کیا خاک اُس گُل کی۔ کہ گلشن میں نہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
وہ فراق اور وہ وصال کہاں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
لوں وام بختِ خفتہ سے یک خوابِ خوش ولے مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
از آں جا کہ حسرت کشِ یار ہیں ہم مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
مجھ کو دیارِ غیر میں مارا، وطن سے دور مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جو مثلِ دوست، عدو کو بھی سرفراز کرے​ جوش ملیح آبادی غزل
اے مرتضیٰ جوش ملیح آبادی نظم
اشعار کو زر تار قبا دیتا ہوں جوش ملیح آبادی رباعی
کیا صرف مُسلمان کے پیارے ہیں حُسین جوش ملیح آبادی رباعی
زَردَار کا خَنّاس نہیں جاتا ہے جوش ملیح آبادی رباعی
انجام کے آغاز کو دیکھا میں نے جوش ملیح آبادی رباعی
حیرت ہے، آہِ صبح کو ساری فضا سنے جوش ملیح آبادی غزل
مہیب سناٹا جوش ملیح آبادی نظم
حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچھا ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی پروین شاکر نظم
شیریں زبانیوں کے دریچے اُجڑ گئے مصطفیٰ زیدی نظم
پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہجومِ غم سے یاں تک سر نگونی مجھ کو حاصل ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
میں انھیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل مرزا اسد اللہ خان غالب نظم
ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نکوہش ہے سزا فریادئ بیدادِ دل بر کی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا! مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
اے منشئ خیرہ سر سخن ساز نہ ہو مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نے مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
اِن سیم کے بِیجوں کو کوئی کیا جانے مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
ہم گر چہ بنے سلام کرنے والے مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
اِس رشتے میں لاکھ تار ہوں ، بلکہ سِوا مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
بھیجی ہے جو مجھ کو شاہِ جَمِ جاہ نے دال مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
ہے خَلقِ حسد قماش لڑنے کے لئے مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
دل تھا ، کہ جو جانِ دردِ تمہید سہی مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
سامانِ خور و خواب کہاں سے لاؤں ؟ مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیں مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
ہیں شہ میں صفاتِ ذوالجلالی باہم مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
بعد از اِتمامِ بزمِ عیدِ اطفال مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
آتشبازی ہے جیسے شغلِ اطفال مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
شب زُلف و رُخِ عَرَق فِشاں کا غم تھا مرزا اسد اللہ خان غالب رباعی
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟ مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کوئی امید بر نہیں آتی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
کوئی دن گر زندگانی اور ہے مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
مرد ہو، عشق سے جہاد کرو جوش ملیح آبادی نظم
شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
اس وقت تو یُوں لگتا ہے​ فیض احمد فیض نظم
آج بازار میں پابجولاں چلو فیض احمد فیض نظم
کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں علامہ اقبال غزل
یا رب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا داغ دہلوی غزل
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا حکیم مومن خان مومن غزل
اسے ہم نے بہت ڈھونڈھا نہ پایا ابراہیم ذوق غزل
حسرتِ جلوہِ دیدار لئے پھرتی ہے خواجہ حیدر علی آتش غزل
بھول گئے تم جن روزوں ہم گھر پہ بلائے جاتے تھے جرأت غزل
نہ وہ راتیں نہ وہ باتیں نہ وہ قصّہ کہانی ہے غلام ہمدانی مصحفی غزل
عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا میر تقی میر غزل
ہستی اپنی حباب کی سی ہے میر تقی میر غزل
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے میر تقی میر غزل
یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے​ علامہ اقبال غزل
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر ميں جی کو لگانا کيا ابنِ انشاء غزل
شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
سراپا رہنِ عشق و نا گزیرِ الفتِ ہستی مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
نہ ہوگا "یک بیاباں ماندگی" سے ذوق کم میرا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ستائش گر ہے زاہد ، اس قدر جس باغِ رضواں کا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دہر میں نقشِ وفا وجہِ تسلی نہ ہوا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
شمارِ سبحہ،" مرغوبِ بتِ مشکل" پسند آیا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
شوق، ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یا رب مرزا اسد اللہ خان غالب شعر
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار مرزا اسد اللہ خان غالب غزل
بحرِ طویل میں ایک مصرع نظیر اکبر آبادی آزاد نظم
نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا مرزا اسد اللہ خان غالب غزل