منتخب کلام

مشہور شعراء کا منتخب کلام بحر و عروض کی مکمل معلومات سمیت

غزل یہ دُنیا ذہن کی بازی گری معلُوم ہوتی ہے

ہزج مثمن سالم


یہ دُنیا ذہن کی بازی گری معلُوم ہوتی ہے
یہاں جس شے کو جو سمجھو وہی معلُوم ہوتی ہے
نکلتے ہیں کبھی تو چاندنی سے دُھوپ کے لشکر
کبھی خود دُھوپ نکھری چاندنی معلُوم ہوتی ہے
مزید دکھائیں
غزل نکلے چشمہ جو کوئی جوشِ زناں پانی کا

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع / رمل مثمن سالم مخبون محذوف


نکلے چشمہ جو کوئی جوشِ زناں پانی کا
یاددہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا
لطف اگر یہ ہے بتاں صندلِ پیشانی کا
حسن کیا صبح کے پھر چہرئہ نورانی کا
مزید دکھائیں
غزل تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف


تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
ہنگامہ گرم کن جو دلِ ناصبور تھا
پیدا ہر ایک نالے سے شورِ نشور تھا
مزید دکھائیں
نظم آدمی

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع / رمل مثمن سالم مخبون محذوف


مجھ کو محصور کیا ہے مری آگاہی نے
میں نہ آفاق کا پابند، نہ دیواروں کا
میں نہ شبنم کا پرستار، نہ انگاروں کا
اہلِ ایقان کا حامی نہ گنہگاروں کا
مزید دکھائیں
غزل وہ تو پتھر پہ بھی گزرے نہ خدا ہونے تک

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع / رمل مثمن سالم مخبون محذوف


وہ تو پتھر پہ بھی گزرے نہ خدا ہونے تک
جو سفر میں نے نہ ہونے سے کیا ہونے تک
زندگی اس سے زیادہ تو نہیں عمر تری
بس کسی دوست کے ملنے سے جدا ہونے تک
مزید دکھائیں
غزل عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں

رمل مثمن سالم مخبون محذوف / رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع


عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مرجائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
مزید دکھائیں
غزل آئی ہے اُس کے کُوچے سے ہوکر صبا کُچھ اور

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف


آئی ہے اُس کے کُوچے سے ہوکر صبا کُچھ اور
کیا سر میں خاک ڈالتی ہے اب ہَوا کُچھ اور
تدبِیر دوستوں کی مجھے نفع کیا کرے
بیماری اور کُچھ ہے کریں ہیں دوا کُچھ اور
مزید دکھائیں
غزل مُوئے مِژگاں سے تِرے سینکڑوں مرجاتے ہیں

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع / رمل مثمن سالم مخبون محذوف


مُوئے مِژگاں سے تِرے سینکڑوں مرجاتے ہیں
یہی نشتر تو رگِ جاں میں اُتر جاتے ہیں
حرم و دیر ہیں عُشاق کے مُشتاق مگر
تیرے کوُچے سے اِدھر یہ نہ اُدھر جاتے ہیں
مزید دکھائیں
غزل دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا

ہزج مثمن مقبوض


دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
مِلا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا
جدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیئے
تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا
مزید دکھائیں
غزل کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے

رمل مثمن مشکول


کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے
غمِ دل مرے رفیقو غمِ رائیگاں نہیں ہے
کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی رازداں نہیں ہے
فقط ایک دل تھا اب تک سو و ہ مہرباں نہیں ہے
مزید دکھائیں
غزل بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا

جمیل مسدس سالم


بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
اُداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
مزید دکھائیں
نظم صبحِ آزادی

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن / مجتث مثمن مخبون محذوف


یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
مزید دکھائیں
غزل بے دِلی کیا یونہی دن گزر جائیں گے

متدارک مثمن سالم


بے دِلی کیا یونہی دن گزر جائیں گے
صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
رقص ہے رنگ پر رنگ ہم رقص ہیں
سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے
مزید دکھائیں
نظم مسجدِ قرطبہ

منسرح مثمن مطوی مکسوف


(ہسپانیہ کی سرزمین بالخصوص قرطبہ میں لکھی گئی)
سلسلۂ روز و شب نقش گرِ حادثات
سلسلۂ روز و شب اصل حیات و ممات
سلسلۂ روز و شب تار حریرِ دو رنگ
مزید دکھائیں
غزل کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن / مجتث مثمن مخبون محذوف


کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
جہانِ رزق میں توقیرِ اہلِ حاجت کیا
شِکم کی آگ لئے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگِ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
مزید دکھائیں